حضرت عزرائیل علیہ السلام کا واقعہ — ملکِ الموت کی کہانی
موت ایک اٹل حقیقت ہے اور اس حقیقت کے ذمہ دار اللہ کے ایک عظیم فرشتے کو ٹھہرایا گیا ہے — حضرت عزرائیل علیہ السلام۔ اس تحریر میں ہم آپ کو ان کی تخلیق، وہ عظیم ذمہ داریاں جو ان پر ہیں، روح قبض کرنے کے مناظر اور اس واقعے سے ملنے والا عملی پیغام بیان کریں گے۔
🔹 تخلیق اور مرتبہ
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے پیدا کیا اور ان میں بعض کو خاص منصب و مراتب عطا کیے۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام کو روح قبض کرنے کی خاص ذمہ داری دی گئی۔ روایات میں آیا ہے کہ ان کی ہڈیاں، شان و شوکت اور وہ جو شان ان پر ظاہر ہوتی ہے، وہ عام انسان کی سمجھ سے باہر ہے۔ وہ اسی حکم کے تحت کام کرتے ہیں جو ان کو اللہ کی طرف سے ملتا ہے — بلا تفریق، بلا اجازتِ خود۔
🔹 عزرائیل علیہ السلام کا پہلا امتحان
بعض روایات کے مطابق جب اللہ تعالیٰ نے انسان کی مٹی سے تخلیق کا حکم دیا تو متعدد فرشتوں کو بلایا گیا۔ کئی نے زمین کی سختی یا اس کے خوف کا اظہار کیا، مگر حضرت عزرائیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم کی اطاعت میں پیش قدمی دکھائی۔ اسی اطاعت اور فرمانبرداری کے سبب انہیں وہ عظیم فریضہ سونپا گیا جو آج تک جاری و ساری ہے۔
🔹 روح قبض کرنے کا عمل — مومن اور کافر میں فرق
اسلامی تعلیمات میں یہ واضح فرق بیان ہوا ہے کہ مومن کی روح نرم اور آسانی سے نکال لی جاتی ہے، گویا پانی آرام سے مشک سے بہہ رہا ہو۔ جبکہ کافر یا ظالم کی روح کھینچے جانے جیسی حالت سے گزرتی ہے، جیسا کہ سخت چیز کو کسی گرمی یا رگڑ میں سے کھینچنے جیسا محسوس ہو۔ یہ فرق اس بات کی علامت ہے کہ زندگی میں اعمال کا ہونا کیسا ہے اور موت کے لمحے کو کونسی حالت میں ملتا ہے۔
🔹 نبی کریم ﷺ کے وصال کا منظر
جب رحمةِ للعالمین ﷺ کا وصال قریب آیا تو حضرت عزرائیل علیہ السلام نے آ کر عرض کیا کہ اللہ نے اجازت دی ہے کہ آپ دنیا میں رہیں یا واپس اپنے رب کے پاس جانا چاہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ ربِ اعلیٰ کے پاس جانا چاہتے ہیں۔ اسی وقت ان کی روح پاک قبض کی گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب امتِ مسلمہ نے اپنے محبوب نبی ﷺ سے عارضی جدائی پائی اور دنیا نے ایک عظیم ہستی کو کھودیا۔
🔹 فرائضِ عظیم اور ذمہ داریاں
- ہر جاندار کی روح قبض کرنا — انسان، جانور، اور باقی مخلوقات (اللہ کے حکم سے)۔
- روحوں کو ان کے مقدر کے مطابق مقامِ عمل تک پہنچانا — نیکوں کے لیے آسانی، بدکاروں کے لیے سختی۔
- زندگی اور موت کے نظام کی نگرانی اور اللہ کی ہدایت کے مطابق عمل درآمد۔
🔹 ملک الموت کا مقام اور شان
حضرت عزرائیل علیہ السلام کو ان چار اہم فرشتوں میں شمار کیا جاتا ہے جن میں حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل اور حضرت عزرائیل شامل ہیں۔ ہر ایک کا مخصوص منصب ہے اور ان کا مقام اللہ کے قریب ہونے کی دلیل ہے۔ ان کی اطاعت اور فرمانبرداری ایمان والوں کے لیے ایک اعلیٰ مثال ہے۔
🔹 عبرت آموز سبق
اس واقعے سے ہمیں جو عملی سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ موت سے اّن کہی محبت یا دنیاوی دوڑ میں الجھ کر غافل نہ رہیں۔ ہر انسان کو اپنی تیاری کرنی چاہیے — نیکی، توبہ، صدقہ اور دیگر اعمالِ صالحہ میں مشغول رہنا چاہیے تاکہ جب ملک الموت آئے تو وہ لمحہ سکون اور رحمت بن جائے۔
🔹 اختتامیہ دعا
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیکی کا موقع عطا فرمائے، موت کے وقت ہمیں ایمان و اطاعت کے ساتھ اپنے رب کے سامنے حاضر کرے۔ آمین۔
📖 Read also: Islamic Quotes About Patience (Sabr)